کشور ناہید سےشمس الاسلام کی بات چیت
|
|
]کشور ناہید پاکستان ہی نہیں، برصغیر ہند وپاک کی ایک معروف کارکن-مصنفہ،شاعرہ، ڈرامہ نویس اور تنقید نگار ہیں۔ ان کا خاندان بنیادی طورسے بلند شہر (دہلی سے تقریباً 100کلومیٹر) کا رہنے والا تھا اور جس نے1949 میں پاکستان جانے کا فیصلہ کیا تھا۔ ان کا جو انٹرویو یہاں پیش کیا گیاہے وہ 4 مئی 1995 کے دن نئی دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں لیا گیا تھا، جس کی زبان اردو تھی،جبکہ کچھ اصطلاحات کا ذکر انگریزی میں بھی کیا گیا تھا۔اس وقت اس کے کچھ حصے ہندی اور انگریزی میں شائع ہوئے تھے، لیکن مکمل انٹرویو ٹیپ میں محفوظ تھا جسے اب قارئین کی نذر کیا جا رہا ہے۔ کشور ناہید سے یہ گفتگو تقریباً 25 سال پرانی ہے،لیکن جن موضوعات اور سوالات پر گفتگو کی گئی ہے، وہ آج بھی بہت اہم ہیں، ہندوستان اور پاکستان دونوں جگہ۔ کشور ناہید پاکستان کے نیشنل کونسل آف آرٹ (اسلام آباد) کی نائب صدر رہی ہیں۔[
سوال: کچھ خاندان سے متعلق تفصیلات معلوم کرنا چاہوں گا۔
جواب: میرا خاندان بلند شہر سے پاکستان گیا تھا۔ میری پیدائش کی اصل تاریخ 18؍جون ہے،جبکہ دستاویزات میں 3؍فروری درج ہو گئی ہے۔میں سات سال کی تھی جب پارٹیشن ہوا۔ہم اپر کوٹ محلہ قانون گو علاقے میں رہتے تھے۔اور بچپن کی دھندلی یادیں لیے جب 1984 میں میں آئی تو کالی ندی پر اتر گئی اور اس گھر اور گلی تک ان ہی دھندلی یادوں کے توسط سے پہنچ گئی۔بس خرابی یہ ہو گئی کہ جب میں نے اپنے پرانے گھر کے دروازے پر دستک دی تو اُن لوگوں نے بھی اِس لیے پہچان لیا کہ ایک رات سے پہلے میرا انٹرویو ٹی وی پر آ گیا تھا۔ میں بغیر شناخت کے وہاں جانا چاہتی تھی، لیکن شناخت ہو گئی تو مزہ کِرکِرا ہوگیا۔بہر حال، جیسا دونوں ملکوں میں حال ہے کہ کچھ بھی نہیں تبدیل ہوا۔
پارٹیشن کے بعد 1984 میں پہلی بارہندوستان آئی تھی۔ پارٹیشن سے قبل والد صاحب کی بسیس چلتی تھیں بلند شہر اور دلّی کے درمیان۔ ہماری اماں نے،جو سید خاندان کی پہلی عورت تھی، جنھوں نے اپنی لڑکیوں کو پڑھانا شروع کیا۔ہمار ےنانا اور کوئی بھی ان سے نہیں ملتا تھا۔
1947 میں ابا کو مسلم لیگ کا لیڈر ہونے کی وجہ سے جیل میں رکھا گیا ۔ 1949تک جیل میں رہے اور جب جیل سے باہر آئے تو جانے کا فیصلہ ہوا۔یہ سب میں نے اپنی سوانح عمری ’ بُری عورت کی کتھا‘ میں لکھا ہے۔
ساری پڑھائی لاہور میں لڑکیوں کے کالج،گورنمنٹ کالج لاہور میں (M.A. in Economics) ہوئی۔ M.A.کے درمیان ہی شادی کی۔ اسے خوشی یا مجبوری جو بھی کہیں،یوسف کامران جو میرے کلاس فیلو تھے،شاعر تھے۔مشاعروں میں آنا جانا تھا، یہ روایتی خاندان کو پسند نہیں تھا اور ہم نے اپنے انقلابی انداز میں انھیں بتایا کہ جب ماسٹرز کر لیں گے تو شادی کریں گے اور ملازمت کریں گے، اپنا گھر خود بنائیں گے۔ جہیز نہیں لیں گے۔شادی میں میں جو لے کر گئی ایک بوری میں انعامات تھے جو مجھے ملے تھے اور دوسری بوری میں میری کتابیں تھیں۔
سوال: عورت اور مرد کے رشتوں کی بنیاد کے بارے میں کیا سوچتی ہیں؟
جواب: میں نے بچپن سے دیکھا اپنے پورے خاندان میں اور خاندان سے بھی آگے کہ عورت کے سامنے مرد اپنی ہر کوتاہی یا اپنی غلطی کی پشیمانی دور کرنے کو کسی زیور، کسی لتّے، کسی کپڑے کے بہانےمعذرت کردیتا تھا۔میں نے بھی طےکیا کہ لتامیں نہیں پہنوں گی،زیور نہیں پہنوں گی، چوڑیاں بھی نہیں،گوٹے کے کپڑےنہیں پہنوں گی۔ یہ اس وقت طے کیا جب میں بس 7-8 سال کی تھی۔تب میں نے ظاہر ہے مارکس وغیرہ کو نہیں پڑھا تھا۔ یہ سب گھر کا ماحول دیکھ کر ہی نہیں ہوا تھا،بلکہ پارٹیشن میں جس طرح سے عورتوں کے اغوا ہوئے، ان پر مظالم ہوئے ،اس نےمیرے بچپن کے ذہن کو بہت متاثر کیا۔عورتوں کا بری طرح مجروح ہونادیکھا، گھر میں دوبھائیوں کے بیچ کی بہن تھی۔ مار مجھے پڑتی تھی، کہا مجھے جاتا تھا بھائیوں کو نہیں، مصالحہ پیسنے کو مجھے کہا جاتاتھا، برتن دھونے کومجھے کہا جاتا تھا۔ میں کہتی تھی اِن بھائیوں کو کیوں نہیں کہتی ہوجو میرے ساتھ کے ہیں۔اس پر مجھے مار پڑتی تھی تو یہ سارے Retaliations (جوابی کارروائیاں) ہوئے۔
سوال: لیکن کیا شادی کرکے آپ کو برابر کے حقوق ملے؟
جواب: یہ الگ کہانی ہے۔ آپ ایک ہی قدم میں پوری سیڑھی چڑھ لینا چاہتے ہیں۔(ہنستی ہیں)
سوال: آپ کو نہیں لگتا کہ شادی کا Institution (ادارہ)عورت کے خلاف ہے؟
Institution of marriage is against both woman and man.(شادی کا ادارہ مردوخواتین دونوں کے خلاف ہے)۔مساوات کسی کے لیے نہیں ہے لیکن عورت کو زیادہ بھگتنا پڑتاہے۔ یہ سچ ہے کہ مجھے 35 برس نوکری کرتے ہوگئے۔ گزشتہ 30 برس سے High position (اعلیٰ عہدوں) پر کام کررہی ہوں اورDecision Makingسطح (فیصلہ کن مقام) پر کام کررہی ہوں،لیکن آج بھی مذاق اُڑاتے ہوئے بات کرنے والے میرےسامنے آ جاتے ہیں۔آج بھی اس بات کا مذاق اُڑانے والے لوگ ہوتے ہیں کہ عورت نے کیا کام کرنا ہے۔ہاں، آپ کے تو آگے پیچھے کوئی نہیں ہے اس لیے آپ کام کرلیتی ہیں۔
] کیوں کہ میرے دونوں بیٹے بڑے ہو گئے ہیں۔ ایک اسپین میں ہے اور دوسرا امریکا میں ہے۔ انھیں اس لیے وہاں بھیجا گیا تھا کیوں کہ مارشل لا کے دوران ماؤں اور والدین کے فیصلوں کو بدلوانے کے لیے، ان کے فلسفے کو بدلوانے کےلیے ، بچوں کوTorture کریں گے(اذیت دیں گے)،اُن کوگرفتار کریں گے [
سوال: کیا آپ کو یہ لگتا ہے کہ کتنے بھی برابری کے دعووں کے ساتھ شادی کی جائے، کتنے بھی مثالی خیالات کے ساتھ بیاہ ہو، عورت کو نمبر دو کا ہی شخص ہوکر رہنا پڑتا ہے؟
جواب :یہ تورہناپڑتا ہے۔وہ تو اس لیے رہنا پڑتا ہےکہ ہماری ماؤں نے اور ہم ماؤں نے بیٹوں کو کم سے کم بر صغیر میں یہ کہہ کے پرورش نہیں کیا کہ تم اس طرح کے مرد ہوجیسی کہ عورت ہے۔میں نے تولکھا بھی ہے کہ جب میرا بیٹا 8-9سال کاتھا اور میں باتیں کرتی تھی تووہ میرے رویے کو دیکھ کر کہا کرتا تھا کہ اماں ،کیا بات کرتی ہو، اس گھر میں تو کتا بھی مرد ہے۔ یہ باتیں کسی ایک شخص کے بدلنے سے نہیں بدلا کرتیں۔ایک بات جس میں میں یقین رکھتی ہوں،ایک مکمل دیوار میں سے ایک اینٹ نکالنے کی کوشش کریں تو دیوار کمزور ہو جاتی ہے اور اینٹیں نکالناآسان ہو جاتاہے،لیکن وہ جو پہلی اینٹ نکالنا ہے،وہ مشکل ہوتا ہے۔جیسے ایک بوند کے پیچھے بہت سی بوندیں آجاتی ہیں،لیکن پہلی بوند کہاں سے آتی ہے،یہ بہت اہم ہے۔
سوال:کیا مسلمانوں کے نام پر حکومت مل جانے پر مسلمان عورت کو حقوق حاصل ہوئے؟
جواب:عورت کوہی کیا85 فیصد معاشرے کو کچھ نہیں ملا۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھیں ہم بے اختیار لوگ کہتے ہیں۔ عورت کے ساتھ تو دوہرا عذاب ہے۔ عورت کے خلاف تشدد صرف یہ نہیں ہے کہ اس کو پیٹنے اور دھمکانے کی اجازت دینے والا لٹریچر ہندوستان اورپاکستان میں بک رہا ہے،بلکہ جو ادب اور Advertisement (اشتہارات) عورت کو کتنا خوبصورت ہونا چاہیے، یہ سب بک رہا ہے،وہ بھی اتنا ہی خطرناک ہے۔میں نے جب گھٹیا مذہبی لٹریچر کے خلاف لکھا جو عورت کو مارنے کی طرف داری کرتاہے،تو لوگ میرے دشمن ہو گئے۔
سوال: کیا یہ سچ نہیں ہے کہ پاکستان میں Fundamentalism(بنیاد پرستی)کو سبھی حکمرانوں نے چا ہےوہ ملٹری حکمراں رہے ہوں ، دائیں بازو کے رہے ہوں یا بھٹو صاحب یا ان کی بیٹی رہی ہوں، بڑھایاplacate(دلاسہ دینا)کیا؟
جواب: ] کچھ سوچتے ہوئے [ دنیا میں جہاں بھیFundamentalism آیا،چاہے اسلام میں، چاہے Judaism(یہودیت)میں،چاہے ہندوؤں میں ، وہ خود ہی نہیں آیا،اُسے Promote (بڑھاوا دیا) کیاگیا۔اُسےImperialist (سامراجیت پسند)طاقتوں نے Promoteکیا۔
سوال:کیا صرف Imperialism(سامراجیت)کوذمہ دار ٹھہرانے سے کام چل جائے گا؟قادیانیوں کو غیر مسلم تو بھٹونے قراردیا۔
جواب: یہ کچھ فورسز (طاقتوں)کو لوگوں کو خوش کرنے کے لیے رکھاجاتاہے اور وہ periphery(کنارے)پر ہوتے ہیں،لیکن اس طرح کی مدد سےوہ centre stage(اہم جگہ) پر آجاتے ہیں۔یہ بتاتے ہوئے بڑا دکھ ہوتا ہےکہ ہمارےیہاں ایک فوجی آمر تھاایوب خاں، جس نے Family Laws(عائلی قوانین)دیے،جس نے عورت کوکافی حقوق دلائے،مولویوں کی مخالفت کے باوجود۔ مسلمان عورت کی مساوات کی لڑائی میں اس سے بہت مدد ملی،لیکن ہمار ے اپنے جو لوگ تھے( اُن کا اشارہ بھٹو کی طرف ہے) انھوں نےNational assembly(پاکستانی پارلیامنٹ)میں عورتوں کی سیٹوں کا کوئی Permanent (مستقل) انتظام نہ کرکے ایکOrdinance (آرڈیننس) کےذریعے رکھا اور جبOrdinance (آرڈیننس) ختم ہواتو سب ختم ہو گیا۔ ہمارے برصغیر کاپروگریسیو(ترقی پسند) دانشور بہت بے ایمان ہے۔ہمارےپروگریسیو موومنٹ نے کسان کی بات کی، دیہات کی بات کی،مزدور کی بات کی۔اُس نے جلسوں میں آنے کو کھدّر پہنا لیکن خود اُس کلاس میں اترا نہیں۔ یہ سچ ہے (اور اِس میں ڈاکٹر مبارک علی سے اتفاق رکھتی ہیں) کہ پاکستان اور اس برصغیر کے دوسرے ملکوں کے پروگریسیو لوگوں نے اپنے اپنے ملکوں میں جو بھی عوام کے خلاف دھارائیں چلتی رہیں،ان کا ساتھ دیا۔ چاہے وہ باہرکتنے بھی انقلابی بنتے ہوں۔
لیکن ہم تاریخ پر بات نہ کریں۔
] بت تو ٹوٹا ہی کرتے ہیں [
سوال: مارکسزم کے مستقبل کے بارے میں کیا سوچتی ہیں؟
جواب: جو لوگ بہت غل مچا رہے ہیں، خوشی سے ڈھول بجا رہے ہیں کہ مارکسزم ختم ہوگیا ہے، وہ بے وقوف ہیں۔نظریے ملکوں سے نہیں جڑے ہوتے ہیں۔بہت سے ملکوں میں غربت ہے، جہالت ہے تو مارکسزم رہے گا۔ایسا بے وقوف ہی کہہ سکتے ہیں۔
سوال: پاکستا ن میں اردو کا مستقبل کیا ہوگا؟
جواب: دیکھیے ، پہلی بات تو یہ ہے کہ ایک وقت میں یہ کوشش کی گئی کہ ہمارے ملک میں جو علاقائی زبانیں ہیں اُن کو قومی دھارے سے نکال دیا جائے ۔تو جب بھی آپ ایسی کوشش کروگے تو ردِّعمل کا شکار ہوگےہی۔اس لیے جب اس کوشش کے جواب میں جو ردِّ عمل ہوا وہ بہت خراب تھا۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ اردو ایک رابطے کی زبان ہے اور باقی ساری علاقائی زبانوں کی برابر اہمیت ہے۔ہمیں یہ نہیں فراموش کرنا چاہیے کہ وہ قومیں جو اپنے بچوں کو اپنی مادری زبان میں تعلیم نہیں دیتیں، وہ بہت خطرناک کھیل کھیل رہی ہوتی ہیں۔ انگریزوں نے بھی اپنے بچوں کو اردو ہندی یا فرانسیسی میں تعلیم نہیں دی۔ امریکیوں نے میکسیکن میں تعلیم نہیں دی،فرانسیسیوں نے فارسی میں اپنے بچوں کو تعلیم نہیں دی۔ یہ ساری دنیا میں صرف ہمار ے برصغیر میں ہے کہ اپنی مادری زبان کی جگہ دوسری زبان میں تعلیم دے کر بڑے مطمئن رہتے ہیں اور بڑے مغرور بھی رہتے ہیں۔ اردوپاکستان میں 12 کروڑمیں سے 3-4کروڑ کی مادری زبان ہے۔زبانیں دربار میں پیدا نہیں ہوتیں، ان کارشتہ زمین سےہوتا ہے۔ان کو کوئی ختم نہیں کر سکتا۔
سوال: آپ نے پہلاشعر کب کہا ہوگا؟
جواب: میں نے 15سال کی عمر میں پہلاشعر کہا تھا۔ ایک طرحی مشاعرہ تھا، جس کے لیے میں نے غزل کہی تھی اور وہ شاید مجازؔکا مشہور مصرعہ تھا : ’’سب کے تو گریباں سی ڈالے اپنا ہی گریباں بھول گئے‘‘۔ اُس دور میں آپ شاعری کرنے کے لیے کلاسیکی شاعری سے روشناس ہوئے بغیر کچھ نہیں کر سکتے تھے۔
سوال: آپ کے استاد کون تھے؟
جواب: میں نے کسی استاد سے شاگردی کا رابطہ نہیں رکھا۔ اُس زمانے میں یہ ہو ہی نہیں سکتا تھا ۔ ہم تو عورت تھے اور عورت یہ کیسےکرتی،البتہ کالج کے زمانے میں جب میں نے شاعری شروع کی تو تمام بڑے اساتذہ شاعر تھے۔جیسے عابد علی عابدؔ، فیض ؔصاحب،صوفی صاحب، بخاری صاحب، احسان دانش صاحب۔ان سب سےملنے کا موقع ملا۔اِن کی محفلوں میں جاکر بیٹھنا، ان سے سیکھنے کا موقع ملا۔
سوال: اِن محفلوں میں جانے کی اجازت تھی؟
جواب:نہیں!چھپ کر جاتی تھی،کوئی بہانہ بناکر جاتی تھی۔
سوال: پرانی پیڑھی کی اردو شاعری میں آپ کے سب سے پسند یدہ شاعر کون ہیں؟
جواب: اِس سوال کا جواب بڑا مشکل ہے۔پسندیدہ شاعر کا ہونا تو مشکل ہوتا ہے،لیکن اشعار ضرور پسندیدہ ہوتے ہیں۔ویسے غالب کو جب بھی پڑھو تو غالب نیا ہی لگتا ہے۔اچھے شعر کی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ اشعار کےمعانی کی نئی سطح ہر روز دریافت ہوتی ہےاور اس کی کوئی حد نہیں ہوتی اس دریافت کی۔اور اُس ملاقات کی جیسے آپ نئے شعر لکھتے ہوتو اس لیے لکھتے ہو کہ آپ کو نئے خیالات سے ملنے کا شوق ہوتا ہے۔اسی طریقے سے کہیں کہیں غالبؔ، مومنؔ اور مصحفی ؔہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اگرSensous (جذباتی)شاعری دیکھنی ہو تو مصحفی جیسا شاعر کوئی نہیں ہے۔دریافت کرنے کے عمل میں جب آپ خود کو دریافت کرتےہیں تو کئی مرتبہ پرانے شاعروں کو بھی آپ اپنے اندر دریافت کرلیتے ہیں۔
سوال: آپ اردو شاعری کی عظیم وراثت میں سے کس کے قریب اپنے آپ کو محسوس کرتی ہیں؟
جواب: اصل میں آج بھی اگر میں غزل لکھتی ہوں تو تین چیزوں پر غور کرتی ہوں۔میری غزل قطعی کلاسیکی ہوتی ہے قطعی۔ اور ایسی غزل کہنا مجھے پسندہے۔
سوال: لوگ کہتے ہیں کہ آپ غزل کے خلاف کوئی تحریک چلائے ہوئے ہیں؟
جواب: یہ بالکل غلط ہے۔میں غزل کے خلاف کسی تحریک میں شامل نہیں ہوں۔ یہ تو ہو بھی نہیں سکتا۔میں تو آپ کو خود بتارہی ہوں کہ میں کلاسیکی غزل ہی لکھتی ہوں، لیکن انداز میرا اپنا ہی ہوتا ہے۔مثلاً اگر میں یہ کہتی ہوں کہ ’’برف کی مانند جینا عمر بھر/ریت کی صورت مگر تپنا بہت‘‘تو میرا اپنا انداز ہے یا ’’گھرکے دھندے نپٹتے ہی نہیں ناہیدؔ/میں نکلنا بھی اگر شام کو گھرسے چاہوں‘‘۔جب میں آزاد نظم پر آتی ہوں تو اس میں میرے ساتھ دو بڑے لوگ ہیں جو ہمیشہ میری رہنمائی کرتے ہیں اور میرے قریب ہیں۔ میم صدیقی اور ن م راشد۔ دونوں کے لکھنے کا انداز مجھے پسند ہے ،بلکہ میری پہلی کتاب ’بے نام مسافت‘جو نظموں کا مجموعہ ہے، اس میں آپ کو بہت جگہ محسوس ہوگاکہ کہاں سے پیڑھی چل رہی ہے۔]غزلوں کی پہلی کتاب ’لبِ گویا‘ [۔
اس کے بعد جب میں آتی ہوں اپنے تیسرے پڑاؤ نثری نظم پر تب مجھے یہ پتا چلتاہے کہ میں جس Sensibility(حساسیت)میں زندہ ہوں،جس Sensibilityکی شاعری پڑھ رہی ہوں ،جس Experience (احساس)سےمیں گزر رہی ہوں،اس کی بہت سی تہیں مجھے آزاد نظم اور غزل نہیں کہنے دیتیں۔
سوال: آزاد نظم کو اپنی تکنیکی اور نثری نظم سے کیسے الگ کرتی ہیں؟
جواب: وہاں وزن ہوتاہے لیکن نثری نظم میں وزن نہیں ہوتا۔
سوال: Feminism(نسوانیت) کے بہت سے Trends(دھارے)ہیں،دنیامیں بھی اور پاکستان میں بھی، آپ کس Trendکی ہمدرد ہیں؟
جواب:کچھ لوگ Feminism سے مراد یہ لیتے ہیں کہ جو کام مرد کرتا رہا ہے، جو ظلم مرد کرتا رہا ہے، وہ سب عورت کرنے لگے۔کچھ یہ سمجھتے ہیں کہ عورت کاجو روایتی رو ل ہے اسے ختم کر دیا جائے تو وہ Feminism ہے۔کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سارے اقتدارکے رشتے عورت کو مل جائیں اور سائیکل الٹ جائے۔میں صرف اتنا سمجھتی ہوں کہ کسی عورت کو اظہارِ رائے کا حق ملے اور عزت کے ساتھ جینے کا وہ حق ملے جو معاشرے نےتو اُس کو کبھی نہیں دیا۔ اور تیسری بات یہ کہ عورت کو اپنے نام سے جینے کی آزادی ہو۔ہمارے معاشرے نے عورت کو رشتوں کے حوالوں سے یاد کیاہے۔وہ ماں ہے،بہن ہے،بیٹی ہے،بیوی ہے،وہ خود کیا ہے اسے کبھی نہیں کہا گیا۔اسے بتایا ہی نہیں گیا۔ پہلے نام لکھے جاتے تھےزوجہ محمد حسین ، والدہ افتخارزیدی۔ آج بھی وہ مسٹر فلاں فلاں، شریمتی فلاں فلاں،بیگم فلاں فلاں ہے۔بڑی شان سے کئی بار یہ کہا جاتا ہےکہ عورت تو گھر کی مالکن ہوتی ہے، لیکن گھر پر جو ملکیت کی تختی مل رہی ہوتی ہے، وہ شوہر ہی کے نام کی ہوتی ہے۔یہی میرا Feminism ہے۔
سوال: پاکستان میں عورتوں کے حقوق کے تعلق سے جو تحریکیں چل رہی ہیں،ان کا کچھ نتیجہ نکلا ہے یا کچھ نیا کرنا پڑے گا؟
جواب : ویسے تو جو تحریکیں چل رہی ہیں انھوں نے پہلی منزل پوری کی ہے، Consciousness (بیداری)کوپھیلانے اور بڑھانے میں مدد کی ہے،وہ تھوڑی بہت تو آتی ہے، لیکن کچھ اور کرنا پڑے گا، کیوں کہ ابھی تک ہم نے یہ سوچا کہ عورتوں کو اُن کے حقوق کے بارے میں آگاہی دی جائے اور یہ بھول گئے کہ جب تک آپ مرد کو باشعور نہیں کریں گے اور اس کو یہ نہیں سمجھائیں گے کہ یہ ماننے کا حوصلہ کرو کہ عورت کی بھی ایک شخصیت ہے۔ اُس کو نوکرانی مت مانو کہ شادی کرکے بیوی کے روپ میں ایک نوکرانی لے آئے۔اُس وقت تک حالات سدھریں گے نہیں۔
سوال : کیا آپ کو لگتا ہے کہ کسی بھی دھارمک راشٹر میں عورت کو اس کے حقوق مل سکتے ہیں؟بھارت کو لوگ بنانا چاہ رہے ہیں اور پاکستان تو ہے ہی؟
جواب:یہ Fallacy (فریب)ہے کہ ’’جب سر پرپڑے گی، تب دیکھیں گے۔‘‘
سوال: کیا پاکستان ایک Theocratic State (مذہب کی حکمرانی والی ریاست)ہے؟
جواب : نہیں، پاکستان ایک Theocratic State نہیں ہے۔پاکستان ایک اسلامی جمہوری ریاست ہے۔
سوال: کیسی جمہوری ریاست ہے؟ دو عورتیں مل کر ایک مرد نوکر کے برابر ہوتی ہیں۔
جواب :یہ سارے قوانین ختم کرنے کی تحریک جاری ہے اور مسلسل ہے۔آٹھویں ترمیم [اس ترمیم کے تحت پاکستان میں جنرل ضیاء الحق کی آمریت کے دور میں پاکستانی آئین میں جو بھی جمہوری اقدار تھیں، انہیں ختم کردیا گیا]ختم ہوگی تو یہ بھی ہو جائے گا۔
سوال: پاکستانی اردو شاعری اور ہندوستانی اردو شاعری میں کچھ فرق ہے یا ایک جیسی ہی ہے؟
جواب : کافی فرق ہے۔ ایک تو یہ ہے کہ پاکستان میں دو Distinct (مختلف)ٹرینڈہیں۔ ایک تو یہ کہ جو Feminism ہے،اس کی وجہ سے اردو شاعری کا لہجہ، زاویہ اور منظرنامہ بدلا۔اس سے مرد شاعر بھی متاثر ہوئےاور محض Romantic(رومانی) شاعری نہیں رہی، بلکہ حقیقت پسندی کی طرف آئے۔ اور دوسری چیز جس نے مدد کی کہ شاعری کو اور بہتر کرسکیں ، وہ ایک تو ہمارے اوپر حبس کی جو رات 11برس جاری رہی، مارشل لا کی شکل میں ۔دوسرے وہ تراجم ہمارے یہاں فلسطینی،لاطینی، افریقی،امریکی، شاعروں کے ہوئے اُس سےہماری شاعری میں بڑی تازہ ہوا کے جھونکے آئے۔اِس شاعری کو سیاسی شاعری تو نہیں کہا جاسکتا،لیکن اس کا زندگی سے گہرا تعلق ہے۔دوسری چیز یہ ہے کہ ہندوستان میں سوائے چند شاعروں کے اردو شاعری کے ساتھ یہ ہوا کہ روایتی شاعری یا تغزُّل کو برقرار رکھا۔شاید یہاں مشاعرے زیادہ ہوتے ہیں، اس لیے ایسا ہوا ۔اس روایتی انداز کی وجہ سے نظم اور غزل میں وہ مختلف پیراہن نہیں آئے جو پاکستان میں آئے،جبکہ ا س کے مقابل پاکستان میں تنقید میں وہ سارے لہجے نہیں آئے جو ہندوستان میں آگئے۔ ہندوستان میں تخلیقی تنقید جس کو Creative criticism (تخلیقی تنقید)کہتے ہیں، وہ ہندوستان میں بہت اچھا ہوا،لیکن پاکستان میں ایسا نہیں ہوا۔
سوال:کیا آپ کا یہ کہنا ہے کہ پاکستانی اردو شاعری زندگی کے زیادہ روبرو کھڑی رہی؟
جواب :کھڑی رہی،لیکن اُس کا بہتر تجزیہ ہندوستان میں ہوا۔یہاں تک کہ ہماری نثر نگاری کابھی بہتر تنقیدی جائزہ ہندوستان ہی میں لیا گیا۔ہمارے یہاں جو افسانہ لکھا گیا اُس کا بہتر تجزیہ ہندوستان میں ہوا۔پاکستان میں نصابی تنقید ہوتی رہی۔وہ سارے لیکچرر جو اردو سے پروفیسر ہوئے تھے، نصابی انداز میں مضمون لکھتے رہے۔شاید قریب رہ کرتجزیہ کرنا مشکل ہوتا ہوکہ مارنے آجائے گا۔دور رہنے سےیہ ڈر نہیں ہوتا ہوگا۔غیر ملکی ترجموں نے ہماری اس دورمیں مدد کی جب ہم پر زبردست زور زبردستی کی جا رہی تھی۔منھ پر تالے تھے۔ان دنوں میں ہم نے اِن ترجموں کے ذریعے سے اپنا دکھ درد بیان کرنے کی کوشش کی۔ یہ ترجمے مقبول ہوئے اور پھر فلسطینی، لاطینی، افریقی شاعری کے انداز اور مزاج کو اردو شاعری نے بھی اختیار کرلیااوراس رنگ میں رنگ گئی اور یہ پہلی بار ہوا۔ آزادی سے پہلے اردو کہا نی کا انداز و لہجہ تبھی بدلاتھا جب ترکی کہانیوں کے ترجمے اردو میں ہوئے تھے یا Eliot کےاردو میں چھپنے سے اردو کی آزاد نظم کا لہجہ بدلا تھا۔
اس طرح پاکستانی اردو شاعری اور تنقید کا یہ ایک Stream(دھارا)ہے اور دوسرا Streamبھٹو صاحب کی پھانسی کے بعد پنپا۔اس نے بہت سے Symbols(علامتوں)کو زندہ کیا ۔کربلا کا Symbolسولی،جلاد، یزید اردو شاعری میں آئے،نئے معنی کے ساتھ۔آپ اگر پچھلے دس سال کی فراز،افتخار عارف یا پروین شاکر کی شاعری دیکھیں تو یہ سب خوب ملے گا، یا فیض صاحب کی آخری شاعری۔
اگر شاعری اپنی زمین سے نہیں جڑی ہوگی تو اس کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔ہمارا ایک شاعری ہے سلیم شاہد،اس نے ایک شعر لکھا: ’’پر جو گھر سے نکالے تو میں بازار میں تھا‘‘۔ ہمارے جو چھوٹے چھوٹے گھرہیں اور اُس کا جو منظرہے اس سے بہتر کسی مصرعہ میں نہیں آ سکتا۔ یا پھر ’’باہر جومیں نکلوں تو برہنہ نظرآؤں/بیٹھاہوں میں گھر میں درودیوار پہن کر‘‘۔انسانی غربت کا اس سے شاندارانداز بیاں کیا ہو سکتا ہے؟ میرکی غزل کاانداز، یہ شاعر لاہور کا ٹھیٹھ پنجابی بولی والا بند ہ ہے۔یا ایک شاعر ہے جس نے کہا ’’دیوار کیا گری مرے کچے مکان کی/لوگوں نے میرےصحن میں رستے بنا لیے‘‘۔یا پھر جمال احسانی نے کہا :’’چراغ سامنے والے مکان میں بھی نہ تھا‘‘۔
کیفی صاحب ،پاکستانی اردو شاعری کی جو کیفیت بیان کرتے ہیں وہ ٹھیک نہیں ہے،کیوں کہ انھوں نے پرانے شاعروں کو پڑھاہے اور آج کی شاعری سے واقف نہیں ۔انھیں موقع ہی نہیں ملا ہے۔کتابیں بھی نہیں جاتیں ۔دونوں ملکوں کے حالات ہی کچھ ایسے ہیں۔
سوال: آپ کے یہاں مشاعرے نہیں ہوتے؟
جواب: ہوتے ہیں۔میلہ مویشیان پہ ہوتا ہے۔واقعی مشاعرے ہمارے یہاں میلہ مویشیان کا حصہ ہیں۔مویشیوں کے میلے بہت ہوتے ہیں اور اس کے ساتھ مشاعرے بھی بہت ہوتے ہیں۔مشاعرے ہیں ،شاعروں کی تہذیب ہے،لیکن جیسے آپ کے یہاں مشاعرے ہوتے ہیں۔آپ کے یہاں تو بلا کے مشاعرے ہوتے ہیں،وہاں تو گانے والے چلتے ہیں،شعر نہیں چلتا۔لیکن یہ بھی سچ ہے کہ جو ٹھیک ٹھاک مشاعرے ہوتے ہیں وہ آپ کے یہاں سے بہتر ہوتے ہیں۔آپ کے یہاں تو صرف گانا چلتا ہے،شاعر نہیں چلتا۔میں نے 10برس پہلے ایک مشاعرہ پڑھا تھا یہاں آکے اور تب ہی سے توبہ کر لی تھی کہ آئندہ مشاعرہ نہیں پڑھوں گی، کیوں کہ اگر میں نے گانا ہی سننا ہے تو پھر میں کسی بڑے گانے والے سے سنوں گی، ان سے کیوں سنوں گی؟وہ شاعر بھی نہیں ہیں اور پھر بھی گا رہے ہیں۔وہ زیادہ اچھا ہوگا۔
سوال: ایسا کیوں ہو رہا ہے؟
جواب : جب دس دس اور پچاس پچاس ہزار لوگ مشاعرے میں آئیں گے تو وہ کلام تھوڑی سننے آئیں گے،وہ تو تماشا دیکھنے آئیں گے۔اُن کو شعراور شاعری سے کیا لینا ہے۔
سوال: پاکستانی شاعروں اور گلوکاروں کی غزلیں جو ہندوستان میں خوب مقبول ہو رہی ہیں اس کی وجہ؟
جواب: اُس کا زیادہ ترکریڈٹ پاکستان کے گانے والوں کو جاتاہے۔اصل بات یہ ہے کہ ہندوستان میں بیگم اختر کے بعد غزل گائیکی کو کسی نے Touchنہیں کیا(چھوانہیں)، اور کسی کے پاس آئی نہیں۔مہدی حسن اور غلام علی نے اس روایت کو آگے بڑھایا۔یہی وجہ ہے کہ ہندوستان میں جو گا رہے ہیں اُن کو ہی نقل کررہے ہیں۔ ایک بات اور ہے جوآپ نے پرورش نہیں کی، حالانکہ اب فلموں کے ذریعے آرہی ہے۔آپ نے ہمارے یہاں کی طرح Folk(لوک سنگیت) کوفروغ نہیں دیا۔ہمارے یہاں اگر ریشما آئی تو Folk کے ذریعے آئی۔ہمارے یہاں اگر عابدہ پروین آئی تو Folk کے ذریعے آئی۔اگر ہمارے یہاں الّن فقیر آیا تو Folk کے ذریعے آیا۔عطاء اللہ بھی آیا تو Folk کےذریعے آیا،جبکہ آپ کے یہاں Rich folk(بھرپورلوک سنگیت) ہونے کے باوجود آپ نے اسےفروغ نہیں دیا۔مجھے پتا نہیں وجوہ کیاہیں،ہمارے Folk نے کئی بار بہت بہادری سے اپنی ذمہ داری نبھائی۔جب ہمارے یہاں مارشل لا تھا،اُس دور میں جب بہت سی چیزیں سینسر ہوتی تھیں، عابدہ پروین تب صوفیانہ کلام گاتی تھیں جس میں مولویوں کے لتّے لیے ہوتے تھے، تو اسےکو ئی ban(ممنوع) نہیں کرسکتا تھا۔ یہ سب ٹی وی پر بھی آتا تھا۔آپ کے یہاں اتنا بڑا folk ہوتے ہوئے بھی ، اس کی اتنی عظیم روایت ہوتے ہوئے بھی اِس کا کچھ استعمال نہیں ہوا۔صرف ہندی فلموں میں فحش گیت گانے کے لیے اس کا استعمال ہوا۔
سوال: فیض پنجابی تھے،اقبال پنجابی تھے۔ انھوں نے پنجابی میں شاعری کیوں نہیں کی؟
جواب : فیض نے تو پنجابی میں بھی شاعری کی ہے،لیکن یہ کوئی ضروری نہیں ہوتی ہے۔ایک بات تو یہ تھی کہ پنجابی زبان لکھنے اور نصاب میں تو زیادہ استعمال نہیں ہوتی تھی اور علم جس زبان میں حاصل ہو،اسی میں تخیل کی پرواز ہوتی ہے۔
سوال: کیا اسلامی شاعری بھی ہوتی ہے آپ کے یہاں؟
جواب: ایسی کوئی چیز نہیں ہوتی ہے۔ نعت تو لکھی جاتی ہے،جیسے بھجن لکھا جاتاہے۔
سوال: ہندوستان کتنی بار آچکی ہیں؟
جواب: چارپانچ بار۔
سوال: اور مشاعروں میں بھی رہی ہیں؟
جواب: صرف ایک مرتبہ۔
سوال: بھارت کے Literary یا Cultural(ادبی یا ثقافتی) منظرنامے پر آپ رائے؟
جواب: جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ آپ کے یہاں اردو شاعری نے جو Gain (حاصل)نہیں کیا، وہ یہ ہے کہ بھارت کے علاقائی ادب جیسے کہ کنّڑ ادب، بنگالی ادب،اُڑیہ ادب ہیں ۔اردو ادب نے گجراتی ادب ، پنجابی ادب سےرشتہ نہیں رکھا۔یہ سب بہت پاورفل ادب ہیں۔ اردو ادب کو اِس سےاپنے آپ کومتعلق کرنا ہوگااور متعلق کرنا چاہیے۔
سوال: کیا اس کی وجہ اردو میں لکھنے والوں کا Superiority complex (احساس ِ برتری)ہے؟
جواب: شاید،یا اردو والے پڑھتے ہی نہیں ہیں اِن سب ادب کو۔وہ سوچتے ہیں کہ کہیں اس سے اُن کی Originality (تخلیقیت)مجروح نہ ہو جائے۔
سوال: غیرملکی ادب کی بھرمار سے آپ پریشان ہیں کیا؟
جواب: مجھے لگتاہے کہ دروازے اور کھڑکیاں کھلی رکھنے سے اچھا ہی ہوتا ہے۔کہیں کے بھی ادب سےسیکھا جا سکتا ہے۔ یورپ سے آنے والی چیزوں سے بھی کوئی حرج نہیں۔نروڈا کوپڑھ کر فیض صاحب نے ’تیری سمندرآنکھیں‘ لکھا۔ Originality(تخلیقیت) کوئی مشینی چیز نہیں ہے۔ یہ صفر سےشروع نہیں ہوتی ہے۔یہ آپ دوسروں سےسیکھتے ہیں اور اپنے انداز میں بیان کرتے ہیں۔
· آپ کے یہاں بہت اچھی کہانیاں لکھی گئیں۔بہت اچھی تنقید ہوئی ،البتہ شاعری بہت اچھی کم ہوئی۔شاید اس وجہ سے کہ یہاں سے خواتین شاعرات نہیں ملتی ہیں۔پاکستان میں خواتین شاعر ایک سے ایک ہیں۔ حالاں کہ اس کے لیے بہت محنت کرنی پڑتی ہے۔ Going through the mill (بہت مشکل حالات سے گزرنا) ہمارےساتھ ہواہے۔جب آپ کے پاؤں پر دوسرےکا پاؤں پڑتا ہے تو چیخْ تو نکلتی ہے۔
سوال:اردو کامستقبل پاکستان میں؟
جواب: کسی بھی زبان کامستقبل تب تک محفوظ ہوتا ہے جب تک اُس میں اچھا لکھنے والےموجود ہوں،اُسے پڑھنے والے موجود ہوں، اس کے اندر حالات کو بیان کرنے کی صلاحیت ہو۔جو علاقائی رجحان چل رہے ہیں اُن سے اردو کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔کسی بھی ملک میں ایک سے زیادہ زبانیں ہوں تو ایک دوسرے کوقوت دیتی ہیں۔
سوال: اور کون سی شاعرہ ہیں پاکستان میں؟
جواب: فہمیدہ ریاض، عشرت آفرین،پروین شاکر اور سارہ شگفتہ کاتو انتقال ہو گیا۔نصیر انجم بھٹی۔ نئے لکھنے والوں میں فاطمہ حسن ہیں، شاہدہ حسن ہیں،عذرا عباس ہیں۔ لکھنےوالے تو اُس وقت تک آتے رہیں گے جب تک زبان ہے اور مسائل ہیں۔
سوال: برصغیر کی تقسیم سے اردو ادب کانقصان ہوا کیا؟
جواب : کوئی نقصان نہیں ہوا،بلکہ فائدہ ہوا، وہ اس طرح کہ جو ادیب صرف بنیادی طورپر رومانیات تک محدود رہتے تھےاُن کے سامنے دوسرے مسائل آئے۔دوبارہ لوگوں کےآباد ہونے کا ،نئی ثقافت سےروشناس ہونے کا، ان contradictions(تضادات) کو resolve (حل) کرنے کا جن سےکبھی واسطہ نہیں پڑا تھا،چیلنج سامنے آیا۔اردو ادب اور گہرائی تک پہنچا۔اگر یہ سب نہ ہوتا تو ’پرمیشور سنگھ‘کیسےلکھا جاتاوہاں،’گڈریا‘ کیسے لکھا جاتا، آپ کے یہاں امریتا پریتم کیسے بنتیں،وہ بنیں اسی لیے ۔ وہ وہی رومانی شاعر ہ رہتیں۔آپ کے یہاں بلونت سنگھ نے جو لکھا،راجندر سنگھ بیدی نے جو لکھا وہ کہا ں سے آیا۔عظیم ادب کوبننے کےلیے جو کسک درکار ہوتی ہے ، وہ اس نے پیدا کی۔
سوال: اردو ادب کومغربی ایشیا کی شاعری یا ادب نے بھی متاثر کیا؟
جواب: جی ہاں،فلسطینی مزاحمتی شاعری نے بہت متاثر کیا۔باقی دوسرے عرب ممالک سے تو ادب ہمارے یہاں پہنچا ہی نہیں۔
سوال: آپ کا تسلیمہ نسرین کےبارے میں کیا خیال ہے؟
جواب:اصل میں صحافیوں کی ایک بہت بری عادت ہوتی ہے catchy phrasing (دلفریب الفاظ)اور catchyناموں کو اٹھاکر بہت باتیں کرتے ہیں۔کسی نے پڑھا نہیں اُس کو۔’لجّا‘ بہت کم تردرجے کا ناول ہے۔She is too young [ وہ بہت چھوٹی ہے]۔اُس کے بارے میں بات کرنا فضول ہے۔ وہ کچھ کام کرے تو اس کے بارے میں بات کریں۔ اُس نے ابھی کوئی قابل ذکر کام ہی نہیں کیا۔ ہم لوگ کسی کوSensational(سنسنی خیزی) پر نہ لیا کریں بلکہ اُس کی ماہیت پر لیا کریں۔اُس نےکوئی کام کیا نہیں ہے۔کام کر ے گی تو بات کریں گے۔ اُس کی جو چیزیں چھپی ہیں وہ ابھی اس قابل نہیں ہیں کہ اُن پر بات کی جاسکے۔اُسے سیاسی طورپر بڑا کیا گیا۔ابھی اُسے ایک ادیب کے طورپر بڑا ہونے دیں۔
سوال: ہمارےیہاں ایک بہت مضبوط Stream (دھارا)ہے ، جسے ہم دلت شاعری کہتے ہیں۔کیا آپ کے یہاں بھی ایسا کچھ ہے؟
جواب: جی ہاں یقیناً آپ کے یہاں ایسا ہے،لیکن ہمارے یہاں ایسا کچھ نہیں ہے،کیوں کہ آپ کے یہاں Caste System (ذات پات کا رواج)ہے۔ بہت ظلم ہے اور ہمارے یہاں ایسا نہیں ہے۔ویسے ہمارے یہاں بھی ایسی شاعری ہے،کتابیں چھپی ہیں۔ اُس طرح کی شاعری کےترجمے رضیہ عابدی اور ڈاکٹرمبارک نے مل کر کیےہیں۔اسے ہم دلت شاعری نہیں کہتے ہیں،بلکہ اسے Grass root (زمین سے جڑی شاعری) شاعری کہتے ہیں اور یہ مسلسل لکھی جا رہی ہے۔ یہ شاعری ان لوگوں کی ہے جو بے اختیار ہیں، جن کی کوئی نہیں سنتا، وہ سب مظلوم ہیں۔ یہ مظلوم شاعری کےنام سےبھی معروف ہے۔سندھی، پنجابی،پشتو اور بلوچی میں تو اِس طرح کی شاعری بہت ہی لکھی جاتی ہے۔ہمارے یہاں کا ناٹک بھی اسی طرح کاہے۔بنیاد پرستی کے خلاف ہے۔بچپن کی شادی کے خلاف ہے،rape( عصمت دری) کے خلاف ہے۔
سوال: پاکستان میں اردو ادیب ،پنجابی ، پشتو، ہندی،بلوچی ادیبوں کے ساتھ مل کر بیٹھتےہیں؟
جواب: جی ہاں، بغیر تنظیم کے بھی خوبinteraction (روابط) ہیں۔کوئی تنظیم نہیں ہے۔ہمارے یہاں اردو کی داداگیری نہیں چلتی،بلکہ وہ سب میں رہ لیتے ہیں۔بلوچی اور پشتو میں خواتین لکھنے والی نہ ہونے کے برابر ہیں، جبکہ باقی سب زبانوں میں خوب ہیں اور بڑی Militant(جنگجو) خواتین ادیب ہیں۔
سوال: پاکستان کی نکڑ ناٹک تحریک پر جس طرح این جی او(NGO) حاوی ہو رہی ہیں،آپ کی اس بار ے میں کیا رائے ہے؟
جواب: نکڑ ناٹک کی دِقت یہ ہے کہ ہر Adventure (پرخطرکام)کی ایک حد ہوتی ہےاور پھر پیٹ توسامنے آتا ہی ہے۔ این جی اوز سے پیسہ لینا خراب نہیں ہے،اگر آپ کا مقصد ٹھیک ہے۔ہمارا ایک گروپ ہے پنجاب لوگ رہس جس کے لیے سب ممبراپنی کمائی کا 15 فیصد دیتے ہیں۔ وہ کوئی مدد نہیں لیتے،لیکن اتنے بڑےاصول رکھنے والے بچوں کو سلام ہی کر سکتی ہوں۔
سوال: آپ کی کتابیں؟
جواب: 8-9مجموعے تو شاعری کے ہیں۔5مجموعے خواتین پر ہیں،اُن کی تحریک پر’عورت خواب وخاک کے درمیان‘،’عورت زبانِ خلق سے زبانِ حال تک‘،’ Woman and reality‘،’عورت ایک نفسیات‘،’عورت درد کارشتہ‘،’آجاؤافریقہ‘ میں رضاکارانہ طورپر عورتوں کی مدد کےلیے ایک ادارے میں self-employment (خودروزگار)کے لیےکام کرتی ہوں،اس کانام ہے’حوّا اسوسی ایٹ‘۔اس کے لیے میں نے کتابیں لکھی ہیں۔ شاعری کی 5کتابیں: ’لبِ گویا‘،’بے نام مسافت‘،’ملامتوں کے درمیان‘،’بے خیال شخص سے مقابلہ‘،’ سیاہ شیشے میں گلابی رنگ‘۔
سوال: Top (اعلیٰ عہدے)پر کام رہتے ہوئے اور ایمانداری سے کام کرتے ہوئے گھٹن نہیں ہوتی؟
جواب: ہوتی ہے تبھی تو شاعری کرتی ہوں اور اس کے بعد عورتوں کے لیے کام کرتی ہوں،اس لیے گھٹن کو صاف کرنے کے لیے روز جھاڑو ساتھ رکھتی ہو اور صاف کیے جاتی ہوں۔اپنے حصے کاراستہ صاف کر لیتی ہوں توجو پیچھےآرہےہوتے ہیں اُن کو بھی کچھ سہولیات مل جاتی ہیں۔
سوال: ہندوستان میں آکر اپنی ادیبی برادری سے ملاقات ہوئی؟
جواب : یقیناً ۔اردو ،ہندی اور دوسری زبانوں کےتمام ادیبوں سے خوب ملاقاتیں ہوتی ہیں۔نشستیں ہوں گی،بیٹھکیں ہوں گی،دوستوں سےملنا اچھا لگتا ہے۔
A TRUNCATED ENGLISH VERSION: https://www.academia.edu/1432907/Midnight_s_Child_Renowned_Pakistani_Urdu_poetess_Kishwar_Naheed_interviewed_by_Shamsul_Islam_
شمس الاسلام
Link for some of S. Islam's writings in English, Hindi, Urdu, Marathi, Malayalam, Kannada, Bengali, Punjabi, Gujarati and video interviews/debates:
http://du-in.academia.edu/ShamsulIslam
Facebook: https://facebook.com/shamsul.islam.332
Twitter: @shamsforjustice
http://shamsforpeace.blogspot.com/
Email: notoinjustice@gmail.com
Transcription: Gulzar Sahrai